مختصر کہانی "بادشاہت کبھی ختم نہ ہوتی"


ایک بادشاہ نے اپنے وزیر سے کہا:

"کتنا اچھا ہوتا، یہ بادشاہی کبھی ختم نہ ہوتی، یونہی جاری رہتی۔"
بادشاہ کی بات سُن کر وزیر نے کہا:
"بادشاہ سلامت! اگر بادشاہی کبھی ختم نہ ہوتی تو یہ آپ تک کبھی نہ پہنچتی۔"

بیربل " بادشاہ اکبر اور چھے بے وقوف"


شہنشاہ اکبر بیربل کی ذہانت کا معترف تھا۔بیربل نے شہنشاہ اکبر کے ساتھ تقریباََ تیس سال تک کام کیااور ان تیس سالوں میں اس نے اکبر اعظم کے دل و جاں میں گھر کر لیا۔ بیربل جسکا اصل نام مہیش داس تھااکبر اعظم کے نو رتن (شیخ مبارک، شیخ فیضی،عبدل فضل،ملا عبدالقادر بدایونی، راجہ ٹو ڈرمل،عبدالرحیم خان خانا،مہاراجہ مان سنگھ،تان سین)میں سے بڑا ذہین اور چالاک تھا۔ اکبر بادشاہ اسکی حاضر دماغی سے خوش تھا۔ باد شاہ اکبر بیربل کو کسی نہ کسی امتحان میں ڈالے رکھتا تھا۔ایک دن بادشاہ کو خیال ہوا کہ میں سلطنت کے عقلمند انسانوں سے تو ملتا رہتا ہوں کیوں نہ بیوقوف انسانوں سے بھی مل لیا جائے۔ بادشاہ نے اپنی خواہش کی تکمیل کے لئے بیربل کو حاضرِ دربار کیااور کہا کہ وہ سلطنت کے چھ بیوقوفوں سے ملنے کا مشتاق ہے۔اکبر نے بیربل کو حکم دیا کہ جاؤ اور شام تک چھ بیوقوفوں کو دربار میں پیش کیا جائے۔

بیربل: حضور والا میں حتمی الامکان کوشش کروں گاکہ آپکی خواہش کو عملی جامہ پہنا سکوں۔ بیربل شہر کی گلیوں میں بے وقوفوں کی تلاش میں مارا مارا پھرنے لگا۔ اچانک اسکی نظر ایک آدمی پہ پڑی جوتالاب میں لیٹا ہوا تھا اور ہاتھ اوپر اٹھائے ہوئے تھا۔
بیربل : بھلے آدمی تم کیا چاہ رہے ہو۔؟؟؟
آدمی: میں اٹھنا چاہ رہا ہوں۔ میں اپنی بیوی کے لئے کپڑ ا خریدنے جا رہا تھا اور غلطی سے اس تالاب میں گر گیا۔
بیربل: تم اپنے ہاتھوں کا سہارا کیوں نہیں لے رہے؟؟؟
آدمی : حضور میں نے اپنا ہاتھ ناپا ہوا ہے جتنا کپڑا میری بیوی کو چاہیے۔ اگر میں اپنا ہاتھ پانی میں ڈال دوں گا تو ناپ کیا باقی رہ جائے گاپھر میں اپنی بیوی کے لئے کپڑا کیسے لوں گا۔ تالاب میں لیٹے آدمی نے جواب دیا۔
بیربل: اچھا تو میں تمھاری مدد کرتا ہوںیہ کہہ کر بیربل نے ہاتھ آگے بڑھایا اور اسے تالاب سے نکال لیا اور اسے کہا کہ تم میرے ساتھ چلو اور کوئی سوال نہیں۔ آدمی راضی ہو کر بیربل کے ساتھ ہو لیا۔ ابھی وہ تھوڑی ہی دور گئے ہوں گے کہ انکا سامناایک آدمی سے ہوا جو گھوڑے پہ سوار تھااور سوکھی گھاس کا گٹھڑااپنے سر پہ رکھے ہوئے تھا۔
بیربل نے اسے دیکھ کر کہا! ارے میاں تم اس گھاس کو گھوڑے کی زین پہ کیوں نہیں باندھ لیتے؟؟؟
اس گھڑ سوار نے جواب دیا جناب میں گھوڑا کمزور اور دبلا ہے اتنا وزن نہیں اٹھا سکتا۔بیربل نے اسکا جواب سن کر کہا واہ رے نصیب ارے یار مجھے تمھاری ہی تلاش تھی۔تم بھی چلو میرے ساتھ اور کوئی سوال نہیں۔ وہ شخص بھی انکے ہمراہ ہو لیا۔ ابھی یہ تینوں تھوڑا آگے گئے تو ایک شخص پہ نظر پڑی جواکیلے باتیں کرتا ہوا بھاگتا جا رہا تھا،
بیربل: ارے میاں کہاں بھاگے جا رہے ہو ذرا دیکھ کے اور سنبھل کر چلو۔
آدمی: جناب میں تو اپنی آوازکو پکڑنے کے لئے اسکے پیچھے بھاگ رہا تھا اور راستے میں تم لوگ آ گئے، بیربل نے کہا تم بھی ہمارے ساتھ چلو۔وہ بھی راضی ہو گیا۔اب اندھیرا ہو چکا تھا۔ بیربل کے پیچھے تین تین بے وقوف آ رہے تھے۔ جب بیربل ان تینوں کے ساتھ شاہی محل کے قریب پہنچا تو اسکی نظر ایک آدمی پہ پڑی جو اپنے آپ کو جھکائے ہوئے کچھ ڈھونڈ رہا تھا۔
بیربل: ارے میاں کیا ڈھونڈ رہے ہو؟؟؟آدمی: ارے بھائی ! میری سونے کی انگوٹھی محل کے اس پار گم ہو گئی ہے۔
بیربل:تم اپنی انگوٹھی وہاں کیوں نہیں ڈھونڈتے جہاں گم ہوئی تھی؟؟؟
آدمی: جناب ! جہاں انگوٹھی گری تھی وہاں پر اندھیرا ہے،جہاں روشنی ہو گی وہیں ڈھونڈوں گا ناں۔بیربل نے اس کو بھی انگوٹھی دینے کا لالچ دیا اور اسے بھی اپنے ساتھ لے لیا۔ وہ بھی راضی ہو گیا ۔ اب ب یربل ان چاروں بے وقوفوں کو لیکر اکبر اعظم کے دربار میں حاضر ہو گیا اور عرض کی۔
حضور کا اقبال بلند ہو ۔۔۔۔ بادشاہ سلامت کی خواہش کے مطابق بے وقوف اشخاص دربار میں حاضر ہیں۔
اکبر اعظم: بیربل تم کیسے کہہ سکتے ہو کہ یہ احمق ترین ہیں؟
بیربل نے عرض کی: حضور انکی حرکتوں کی وجہ سے بھانپا ہے کہ یہ احمق ہیں اور پھر بیربل نے بادشاہ سلامت کوانکی احمقانہ حرکتوں کی تفصیل سے آگاہ کیا۔ اکبراعظم نے تفصیل سننے کے بعد کہا کہ میں نے تو چھ بے وقوفوں سے ملاقات کا کہا تھا مگر تم چار لیکر آ گئے ہو۔بیربل نے عرض کی جی حضور چار ہی لیکر آیا ہوں۔ بادشاہ نے کہا کہ باقی دو کہاں ہیں؟؟
بیربل نے کہا کہ اگر جان کی امان پاؤں تو کچھ عرض کروں ؟؟؟
اکبر اعظم نے کہا اجازت ہے۔
بیربل نے عرض کی حضور چار بے وقوف یہ ہیں اور جو باقی دو بچتے ہیں ان میں سے ایک آپ ہیں اور ایک میں۔۔۔۔۔۔۔۔اور وہ اسطرح کہ آپ نے احمقانہ خواہش پیش کی اور میں نے اس احمقانہ خواہش کو پورا کرنے کی حامی بھر لی۔
شہنشاہ اکبر بیربل کے جواب سے لاجواب ہو گیا اور اس کی حاضر دماغی پر داد دی

مغل شہزادہ جہانگیر اور خواجہ سرا

مغل شہزادے جہانگیر نے ایک دن اپنی نجی محفل میں ایک خواجہ سرا کو فارسی میں گدھا کہہ دیا‘ یہ بات اکبر بادشاہ تک پہنچی تو بادشاہ نے شہزادے کو طلب کر لیا‘شہزادے نے غلطی کا اعتراف کر لیا‘ اکبر نے اس سے کہا شیخو‘کمہار اور بادشاہ کی زبان میں فرق ہونا چاہیے‘ شہزادے نے جواب دیا‘ ابا حضور میری زبان پھسل گئی تھی‘ بادشاہ نے کہا‘ بیٹا جو شخص اپنی دو تولے کی زبان قابو میں نہیں رکھ سکتا وہ لاکھ کوس وسیع سلطنت کیسے قابو میں رکھے گا‘ #بادشاہت زبان سے شروع ہوتی ہے اور #زبان پر ہی ختم ہوتی ہے‘ زبان کو لگام دینا سیکھو ‘سلطنت خود بخود لگام میں آ جائے گی۔

اکبر اینڈ بیربل "منحوس کون"


ایک مرتبہ اکبر بادشاہ سے لوگوں نے شکایت کی کہ آپ کے راج میں ایک
ایسا آدمی ہے جس کا منہ صبح صبح دیکھو تو دن بھر کھانا ہی نہیں
ملتا- بادشاہ نے اسے آزمانے کے لئے بلایا اور اپنے کمرے کے سامنے سُلا
دیا- صبح اس کا منہ دیکھا اور واقعی اس دن کوئی ایسی بات ہو گئی کہ
جس کی وجہ سے بادشاہ دن بھر کھانا نہ کھا سکا- اس نے اس آدمی کو پھانسی
کا حکم دے دیا-
اس آدمی نے بیربل سے التجا کی کہ وہ اسے پھانسی سے بچا لے-
بیر بل نے بادشاہ سے پوچھا: آپ اسے پھانسی کیوں دے رہے ہیں؟
بادشاہ: یہ آدمی منحوس ہے، میں نے آج صبح اس کی شکل دیکھی تو مجھے کھانا نصیب نہیں ہوا-
بیر بل: بادشاہ سلامت آپ نے اس کی صورت دیکھی تو آپ کو کھانا نصیب - نہ ہوا
اور اس نے صبح آپ کی صورت دیکھی تو موت کا حکم مل گیا، تو منحوس 
کون ہوا؟

وعدہ کرو تو ہمایوں کیطرح نبھاؤ

''وعدہ کرو تو ہمایوں کیطرح نبھاؤ''
🔮ایک معمولی سقے کو حسب وعدہ ہندوستان کے تخت پر بٹھایا گیا۔
🔮یہ تاریخ کا انوکھا اور مشکل ترین وعدہ تھا جسے مغل شہنشاہ نے پورا کیا۔
🔮شہزادوں اور درباریوں نے جھک کر آداب کہا۔احکامات کی تعمیل کی۔
🔮بادشاہ نے فرمایا اگر نظام سقہ میری جان نہ بچاتا تو نہ میں بادشاہ ہوتا نہ مغل سلطنت۔
🔮آج بھی لوگ ایسے حکمران چاہتے ہیں جو مغل بادشاہوں کیطرح اپنے عہد کی پاسداری کریں۔
وعدہ نبھانے والا بادشاہ !
شیر شاہ سوری ایک معمولی افغان سردار تھا ۔بابرؒ بادشاہ نے افغانوں کی تالیف قلب کیلئے اس نوجوان کو فوج میں بھرتی کرلیا ۔لیکن ہمایوں بادشاہ جب ایک جنگی مہم پر دورافتادہ علاقے میں مقیم تھے تو شیر شاہ نے بے وفائی کی ۔مقامی سرداروں کو ساتھ ملا کر بادشاہ کیخلاف بغاوت کردی او ر بہار اور بنگال میں سوری سلطنت کا پرچم لہرا دیا ۔
بادشاہ نصیرالدین ہمایوں نے اپنے والد بابرؒ سے کئے ہوئے عہد کے مطابق اپنے چھوٹے بھائیوں کو ہمیشہ معاف کیا تھا۔ لیکن بھائیوں نے شیر شاہ کے مقابلے میں اپنے بڑے بھائی کا ساتھ نہ دیا۔ہمایوں بادشاہ تنہا ہوگئے تھے ۔ اس صورت حال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے موقع پرست شیر شاہ نے مغل سُلطنت پر قبضہ کرلیا ۔ دوبارہ سلطنت پانے کیلئے مغل فوج اور شیر شاہ کی افواج کے مابین کئی معرکے بپا ہوئے ۔ایسے ہی ایک معرکے میں ہمایوں بادشاہ کا ایک بازو زخمی ہوگیا۔وفاداروں نے تدبیر لڑائی اور بادشاہ کو چند سواروں کے ہمراہ میدان جنگ سے نکال کر دور لے گئے ۔ لیکن دشمن مسلسل تعاقب کررہاتھا ۔ محفوظ مقام کی تلاش میں ایک موقعہ ایسا آیا کہ آگے چوڑے پاٹ والا گہرا دریا تھا اور پیچھے انعام کے لالچ میں شیر شاہ کی فوج تھی ۔بادشاہ کے زخمی بازو سے خون بہہ رہا تھا،لباس پھٹ چکا تھا اور توشہ دان خالی تھا ۔بچے کھچے محافظ مارے جا چکے تھے اور جو ساتھ تھے ان کے گھوڑے نڈھال ہوکر گررہے تھے ۔ ہمایوں بادشاہ نے لمحہ بھر کیلئے اپنے عقب میں آتے دیکھا اور دشمن کے ہاتھو ں گرفتار ہونے کی بجائے الللہ اکبر کہ کر اپنا گھوڑا دریا میں ڈال دیا ۔پانی گہرا تھا ،گھوڑا زیادہ دیر دور نہ جاسکا اور تھک کر گھٹنوں کے بل گر پڑا۔ ہمایوں بادشاہ کو جب کوئی راستہ دکھائی نہ دیا توانہون نے اونچی آوازمیں مدد کیلئے پکارنا شروع کردیا کہ شائد کوئی قریب ہو اور وہ مدد کردے ۔
خدا کی شان دیکھئے کہ دریا کے دوسرے کنارے پر ایک سقہ پانی بھر رہا تھا ۔اس نے مشکل میں گھرے شخص کی پُکا ر سنی تو اپنا چرمی مشکیزہ خالی کیا اور اس میں ہوا بھر کر دریا میں کود گیا ۔ اس نے کمال مہارت کیساتھ زخمی بادشاہ کو دریا سے نکال لیا تھا ۔
درد سے کراہتے ہوئے ہمایوں نے سقّے سے پوچھا ’’تمہارا نام کیا ہے ‘‘
’’نظام ‘‘ سقّے نے سر سری سا جواب دیا۔
’’میں ہمایوں ۔۔ہندوستان کا بادشاہ ۔میں جب دوبارہ بادشاہ بنوں گا تجھے ایک دن کیلے تخت پر بٹھاؤں گا ‘‘ہمایوں بادشاہ نے اپنے محسن سے وعدہ کیا۔
وقت بدل گیا اور ہمایوں بادشاہ نے سات سال کے بعد دوبارہ فوج جمع کی اور سوری سلطنت کا ہمیشہ کیلئے خاتمہ کردیا ۔نظام سقّہ بادشاہ کے وعدے کو نہیں بھولا تھا ۔اسے ملاحوں سے خبر ملی کہ ہمایوں بادشاہ دوبارہ تخت نشین ہوچکے ہیں ۔وہ دارلحکومت دہلی کی طرف روانہ ہوا۔ کئی روز کی مسافت کے بعد وہ شاہی دربار میں پہنچ گیا ۔ اس نے محافظوں کو بتایا کہ وہ شہنشاہ کو ایک وعدہ یاد دلانے آیا ہے ۔اسے بادشاہ کے حضور پیش کیا گیا ۔
’’فریادی بتاؤ کیاچاہتے ہو‘‘ شہنشاہ ہندوستان نے پوچھا۔
’’میں نظام سقّہ ہوں ،وہی سقّہ جس نے جہاں پناہ کی جان بچائی تھی ۔میں تخت پر بیٹھنے کیلئے آیا ہوں ‘‘
بادشاہ نے سقّے کو تھوڑا قریب آنے کا حکم دیا ۔قریب آتے ہی بادشاہ نے اپنے محسن کو پہچان لیا ۔حکم دیا کہ اسے شاہی لباس پہنیایا جائے اور ایک دن کیلئے تخت نشین کیا جائے ۔درباریوں نے عرض کی کہ یہ مغل تخت وتاج کی توہین ہے کہ ایک معمولی سے سقّے کو یہ مرتبہ عطا کی جائے ۔ایسا کرنے سے رعایا میں شاہی دربار کا رعب ختم ہوجائے گا ۔اس سے بہتر ہے کہ اس کے احسان کے بدلے اس کو منہ مانگا انعام دے کر فارغ کردیاجائے ۔ اس پر دربار میں ہی نہیں حرم میں بھی بہت بحث ہوئی ۔
’’اگر یہ سقّہ اس روز میری جان نہ بچاتا تو نہ یہ سُلطنت ہوتی نہ آپ ہوتے اور نہ میں بادشاہ ہوتا ۔حکم کی تعمیل ہو‘‘
سقّے کو بادشاہ کا لباس پہنا کر تخت نشین کیا گیا ۔درباری اور شہزادے جھک کر کورنش بجا لائے ۔سقّے نے پورا ایک دن ہندوستان پر حکومت کی ۔جب وہ واپس جانے لگا تو اسے بادشاہ سلامت نے انعام واکرام سے خوب نوازا۔اور اسے بحافظت اس کے گاؤں پہنچایا گیا ۔اس دن سے ہندوستان میں یہ واقعہ مثل کے طور پر مشہور ہوگیا کہ وعدہ کرو توہمایوں کیطرح نبھاؤ!
لوگ آج بھی اسی انتظار میں کہ ان کے وہ لوگ حکمران بنیں جو اپنے وعدے پورے کرسکیں۔
ماخوذ از سات بادشاہ سات کہانیاں تصنیف و تحقیق؛بیگ راج

اکبر اینڈ بیربل سٹوری " ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ 100 ﻣﯿﮟ ﺳﮯ 99 ﺁﺩﻣﯽ ﺍﻧﺪﮬﮯ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ"

ﺍﮐﺒﺮ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﻭﺯﯾﺮ ﺗﮭﺎ ﺑﯿﺮ ﺑﻞ ۔
ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ 100 ﻣﯿﮟ ﺳﮯ 99 ﺁﺩﻣﯽ ﺍﻧﺪﮬﮯ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ۔ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﻮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﭘﺮ ﺣﯿﺮﺕ ﺑﮭﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﻏﺼﮧ ﺑﮭﯽ ﺁﯾﺎ ﺍﻭﺭﺣﮑﻢ ﺩﯾﺎ ﮐﮧ ﺍﭘﻨﯽ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﮐﻮ ﺛﺎﺑﺖ ﮐﺮﻭ ﻭﺭﻧﮧ ﺳﺰﺍ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺗﯿﺎﺭ ﮨﻮﺟﺎﺅ ۔ ﺑﯿﺮ ﺑﻞ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﺣﻀﻮﺭ ﺣﮑﻢ ﮐﯽ ﺗﻌﻤﯿﻞ ﮨﻮﮔﯽ ۔ ﺍﮔﻠﮯ ﺭﻭﺯ ﺑﯿﺮ ﺑﻞ ﺷﺎﮨﺮﺍﮦ ﻋﺎﻡ ﭘﺮ ﺑﯿﭩﮫ ﮐﺮ ﭼﺎﺭ ﭘﺎﺋﯽ ﺑﻨﻨﮯ ﻟﮕﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﮏ ﺁﺩﻣﯽ ﺳﺎﺗﮫ ﺑﭩﮭﺎ ﻟﯿﺎ ﺟﺲ ﮐﻮ ﺣﮑﻢ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﻓﮩﺮﺳﺖ ﺍﻧﺪﮬﻮﮞ ﮐﯽ ﺗﯿﺎﺭ ﮐﺮﻧﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﮏ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﯽ ۔ ﺍﯾﮏ ﺁﺩﻣﯽ ﺁﯾﺎ ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﺑﯿﺮ ﺑﻞ ﮐﯿﺎ ﮐﺮ ﺭﮨﮯ ﮨﻮ ۔ ﺑﯿﺮ ﺑﻞ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﻨﮯ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﻌﺎﻭﻥ ﮐﻮ ﮐﮩﺎ ﺍﺱ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﺍﻧﺪﮬﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻟﮑﮫ ﺩﻭ ۔ﭘﮭﺮ ﺍﺳﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ ﭼﺎﺭﭘﺎﺋﯽ ﺑﻦ ﺭﮨﺎ ﮨﻮﮞ ۔ﯾﻮﮞ ﻟﻮﮒ ﺁﺗﮯ ﮔﺌﮯ ﭘﻮﭼﮭﺘﮯ ﮔﺌﮯ ﺑﯿﺮ ﺑﻞ ﮐﯿﺎ ﮐﺮ ﺭﮨﮯ ﮨﻮ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﺪﮬﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﺎ ﻧﺎﻡ ﻟﮑﮭﻮﺍﺗﮯ ﮔﺌﮯ ۔۔ ﺍﺗﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﺷﺎﮨﯽ ﻗﺎﻓﻠﮧ ﮔﺬﺭﺍ ﺗﻮ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﺑﯿﺮﺑﻞ ﮐﯿﺎ ﮐﺮ ﺭﮨﮯ ﮨﻮ ۔ ﺑﯿﺮ ﺑﻞ ﮐﮯ ﻣﻌﺎﻭﻥ ﻧﮯ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﺑﮭﯽ ﺍﻧﺪﮬﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻟﮑﮫ ﺩﯾﺎ ۔ ﺍﺗﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺁﺩﻣﯽ ﺁﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻧﮯ ﭘﻮ ﭼﮭﺎ ﺧﯿﺮﯾﺖ ﮨﮯ ﺑﯿﺮﺑﻞ ﭼﺎﺭ ﭘﺎﺋﯽ ﮐﯿﻮﮞ ﺑﻦ ﺭﮨﮯ ﮨﻮ ۔ﺑﯿﺮ ﺑﻞ ﻧﮯ ﻣﻌﺎ ﻭﻥ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ ﺍﺱ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻟﮑﮭﻮ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﺑﺎﺩ ﺷﺎﮦ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﻣﺘﻮﺟﮧ ﮨﻮﮐﺮ ﮐﮩﺎ ۔ﻋﺎﻟﯽ ﺟﻨﺎﺏ ﻓﮩﺮﺳﺖ ﺩﯾﮑﮫ ﻟﯿﺠﯿﮯ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﺑﮭﯽ ﺷﺎﻣﻞ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺳﺐ ﻟﻮﮒ ﯾﮧ ﺩﯾﮑﮫ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﭼﺎﺭ ﭘﺎﺋﯽ ﺑﻦ ﺭﮨﺎ ﮨﻮﮞ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﺼﺎﺭﺕ ﭘﺮ ﯾﻘﯿﻦ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ ﮔﻮﯾﺎ ﺍﻧﺪﮬﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﮐﯿﺎ ﮐﺮ ﺭﮨﮯ ﮨﻮ ۔ﺻﺮﻑ ﺍﯾﮏ ﺷﺨﺺ ﺁﯾﺎ ﺟﺴﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﺼﺎﺭﺕ ﭘﺮ ﯾﻘﯿﻦ ﺗﮭﺎ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﺗﺼﺪﯾﻖ ﻧﮩﯿﮟ ﭼﺎﮨﯽ 
ﺑﻠﮑﮧ ﭼﺎﺭ ﭘﺎﺋﯽ ﺑﻨﻨﮯ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﭘﻮﭼﮭی

بادشاہ اکبر اینڈ بیربل "بادشاہ اکبر اور حجام"

بادشاہ کے نو رتنوں میں سے ایک راجہ بیربل بہت مشہور ہیں۔ بیربل کی دانشمندی نے بیربل کے کردار کو افسانوی بنا دیا۔ اکبر اور بیربل سے متعلق ایک واقعہ بہت مشہور ہے۔ روایت کے مطابق ایک رات کو جب بادشاہ اور بیربل بھیس بدل کر شہر کا گشت کر رہے تھے۔ دونوں کا گزر ایک حجام کی جھونپڑی کے پاس سے ہوا۔ حجام جھونپڑی کے باہر چار پائی پر بیٹھا حقہ پی رہا تھا۔ اکبر نے اس سے پوچھا۔ بھائی یہ بتاؤ کہ آج کل اکبر بادشاہ کے راج میں لوگوں کا کیا حال ہے۔ حجام نے فوراً جواب دیا۔ اجی کیا بات ہے۔ ہمارے اکبر بادشاہ کی اس کے راج میں ہر طرف امن چین اور خوشحالی ہے۔ لوگ عیش کر رہے ہیں۔ ہر دن عید ہے ہر رات دیوالی ہے۔ اکبر اور بیربل حجام کی باتیں سن کر آگے بڑھ گئے۔ اکبر نے بیربل سے فخریہ لہجے میں کہا۔ بیربل دیکھا تم نے ہماری سلطنت میں رعایا کتنی خوش ہے؟ بیربل نے عرض کیا بیشک جہاں پناہ آپ کا اقبال بلند ہے۔ چند روز بعد پھر ایک رات دونوں کا گزر اسی مقام سے ہوا۔ اکبر نے حجام سے پوچھ لیا۔ کیسے ہو بھائی؟ حجام نے چھوٹتے ہی کہا۔ اجی حال کیا پوچھتے ہو ، ہر طرف تباہی بربادی ہے۔ اس اکبر بادشاہ کی حکومت میں ہر آدمی دکھی ہے۔ ستیاناس ہو ، اس منحوس بادشاہ کا۔ اکبر حیران رہ گیا۔ کہ یہی آدمی کچھ دن پہلے بادشاہ کی اتنی تعریف کر رہا تھا۔ اور اب ایسا کیا ہوگیا ؟۔ جہاں تک اس کی معلومات کا سوال تھا۔ عوام کی بد حالی اور پریشانی کی اطلاع اسے نہیں تھی۔ اکبر نے حجام سے پوچھنا چاہا۔ لوگوں کی تباہی اور بربادی کی وجہ کیا ہوئی۔ حجام کوئی وجہ بتائے بغیر حکومت کو برا بھلا کہتا رہا۔ اکبر اس کی بات سے پریشان ہوگیا۔ الگ جا کر بادشاہ نے بیربل سے پوچھا "آخر اس شخص نے یہ سب کیوں کہا"۔ بیربل نے جیب سے ایک تھیلی نکالی اور بادشاہ سے کہا۔ اس میں 10 اشرفیاں ہیں دراصل میں نے 2 دن پہلے اس کی جھونپڑی سے چوری کروالی تھیں۔ جب تک اس کی جھونپڑی میں مال تھا۔ اسے بادشاہ حکومت سب کچھ اچھا لگ رہا تھا۔ اور اپنی طرح وہ سب کو خوش اور سکھی سمجھ رہا تھا۔ اب وہ اپنی دولت لٹ جانے سے غمگین ہے ساری دنیا اسے تباہی اور بربادی میں مبتلا نظر آتی ہے۔ جہاں پناہ ، اس واقعے سے آپ کو یہ گوش گزار کرنا چاہ رہا تھا کہ ایک فرد اپنی خوشحالی کے تناظر میں دوسروں کو خوش دیکھتا ہے۔ لیکن بادشاہوں اور حکمرانوں کو رعایا کا دکھ درد سمجھنے کے لئے اپنی ذات 
سے باہر نکل کر دور تک دیکھنا اور صورتحال کو سمجھنا چاہئے۔

District & Session Judge Toba Tek Singh Jobs 2019 for 40+ Data Entry Operators, Accounts, Audit, Library, IT & Other Posts

ADMIN KHBJOB (NADEEM ASHRAF JANJUA)

PO Box 27 Dera Ghazi Khan Jobs 2019

PO Box 27 Dera Ghazi Khan Jobs 2019

  • Senior Technician (Auto Mechanic) (Eq. to BPS-12)
  • Technician-I (Instrumentation) (Eq. to BPS-10)
  • Technician-II (Welding) (Eq. to BPS-05)
  • Data Entry Operator (Eq. to BPS-05)
  • Caretaker-II (Eq. to BPS-07)
  • Driver-Iii (Eq. to BPS-05)

Federal Govt Organization Jobs 2019

Federal Govt Organization Jobs

2019 for 100+ Jr Assistants, HR, Medical, Legal, Engineering, DAE & Other Posts


PPSC Jobs 2019 (1/2019)

PPSC Jobs 2019 (1/2019)

53+ Jr Clerks, Assistants, Technologists, Teaching & Management Posts in Punjab Government


Join Pak Army as Captain through Direct SSC – May 2019 Entry

Join Pak Army as Captain through Direct SSC – May 2019 Entry


PAEC Jobs 2019

PAEC Jobs 2019 Data Entry Operators, Tech-I/II, Nurses, Telecom Operator I/II and Other Posts


National Highways & Motorway Police (NHMP) Jobs 2019

National Highways & Motorway Police (NHMP) Jobs 2019 for 1158+ Jr Patrol Officers, Assistants, Steno Typists, LDC/UDC, Para Medical & Other Posts (Download PTS Form)


Join Frontier Corps (FC) 2019

Join Frontier Corps (FC) 2019 in Multiple Categories (63rd Batch) (All Pakistan)


FWO JOBS

Frontier Works Organization 
(FWO) Jobs 2019 for 138+ Teachers, Admin, Accounts, DEO, Clerks & Other Posts

PO Box 55 GPO Lahore

NADEEM ASHRAF JANJUA

Join Pakistan Air Force

Join Pakistan Air Force (PAF) 2019 in 123 Combat Support / SPSSC – Apply by 31st Dec 2019


جاز پر فری ٹی وی چلائیں

FREE TV APPS

اپلیکیشن ڈائون لوڈ کرنے کے لئے نیچے لنک پہ کلک کریں