Showing posts with label Blog. Show all posts
Showing posts with label Blog. Show all posts

عثمان غازی کا ایک مختصر سا تعارف /6 سو سال تک 3 براعظم پر حکومت کرنے والے عثمان غازی کا تعارف Kurulus Osman

 

عثمان غازی کا ایک مختصر سا تعارف

6 سو سال تک 3 براعظم پر حکومت کرنے والےسلطنت عثمانیہ کے مرکزی کردار عثمان غازی کا تعارف

آپ کی بیویاں: مالحون خاون ، رابعہ بالا خاتوں

 آپ  کے بیٹے: پزارلی ، چوبان ، حمید ، اورہان ، علاۂ الدین ، علی ، ملک ، ساوچی آپ کی بیٹیاں: فاطمہ سلطان

سلطنت عثمانیہ کے بانی عثمان غازی 1258 میں سوگوت میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد ارطغرل غازی اور والدہ حلیمہ سلطان تھیں۔ عثمان غازی ایک درازقد، مخروطی چہرے ، سیاہ رنگت ، ہلکی بھوری آنکھیں اور گھنی بھنووں کے مالک تھے۔ ان کے کندھے کافی چوڑے اور جسم کا اوپر والا حصہ نچلے حصے سے زیادہ بڑا تھا۔



عثمان غازی ایک اعلیٰ پائے کے قائد تھے۔ آپ انصاف کرنے والے ، بہادر اور شفقت کرنےو الے تھے۔ غریبوں کی مدد کرتے اورکبھی کبھی انہیں اپنے کپڑے دے دیا کرتے تھے۔ وہ ہر دن اپنے گھر لوگوں کے لئے ایک شاندار دسترخوان کا اہتمام کرتے تھے۔

 سن 1258 میں جب عثمان غازی نے قائی قبیلے کی سرداری حاصل کی اس وقت وہ صرف 23 سال کے تھے۔ وہ ایک زبردست گھڑسوار اور تیغ زن تھے۔ ان کی شادی عمر صاحب کی بیٹی مالحون سلطانہ  سے ہوئی جنہوں نے اورحان کو جنم دیا جو بعد میں تخت نشین ہوئے۔

ثمان غازی نے شیخ ایدیبالی کی نصیحتوں کو سنا اور ان کا احترام کیا۔ وہ اکثر ایدیبالی کے گھر جاتے جہاں درویشوں کا ایک گروہ ملاقات کرتا تھا۔

ایک رات ، جب آپ شیخ ایدیبالی کی درگاہ میں مہمان تھے ، آپ نے خواب میں دیکھا۔ جیسے ہی سورج نکلا ، آپ ایدیبالی کے پاس گئے اور ان سے کہا: “ محترم شیخ! میں نے آپ کو خواب میں دیکھا تھا۔ ایک چاند آپ کی چھاتی سے نمودار ہوا یہ بڑھتا گیا اور میری چھاتی میں اتر گیا۔ میری ناف سے پھر ایک درخت نکلا یہ بڑا ہوا اور سرسبز ہوگیا۔ اس کی شاخیں پھیلتی گئیں اور گھنی ہوگئیں ۔ اس کی شاخوں کے سائے نے پوری دنیا کو ڈھانپ لیا۔ میں خواب کی کیا تعبیر ہے؟

کچھ دیر خاموشی کے بعد ، شیخ نے آپ کو بتایا:

مجھے خوشخبری ملی ہے ، عثمان! اللہ نے تمہیں اور تمہارے بیٹے کو خودمختاری عطا کی ہے ۔ پوری دنیا تمہارے ماتحت ہوگی اور میری بیٹی ، تمہاری بیوی ہوگی۔

 

اس غیر معمولی واقعے کے بعد ، شیخ نے اپنی بیٹی بالا سلطانہ کو عثمان کے دیا اور ان  سے علاؤالدین پیدا ہوئے۔   قلعہ بلیقیق پر فتح کے بعد ، علاؤادلدین  کیکوبت ، جو روم کے سلجوقی حکمران تھے  ، نے انہیں  خودمختاری کے اشارے کے طور پر

"ایک سرس گاچھ ایک معیار اور ایک ڈھول

" بھیجا ، 699 ھ میں  (1299 ء)۔

اس کے بعد ، آپ نے سکے تیار کئے اور جمعہ کی نماز  پڑھی۔ ان کا وزیراعظم  ، آپ کا بیٹا علاؤالدین پاشا تھا۔ ایک آکچا کا ٹیکس لگانے والے سب سے پہلے عثمان غازی ہی ہیں۔  آپ کا ایک نام کارا عثمان بھی تھا جو ترکوں میں بہادی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔جیسا کہ اوغوز میں یہی نام کارا یوسف کو دیا گیا تھا جو کاراکویونلس کے فاتح تھے اور  اور اکاوونسل کے سلطان ، کارا یلوک عثمان صاحب  کو بھی دیا گیا تھا

اناطولیہ سے طلوع ہونے والا سلطنت عثمانیہ کے  یہ بانی  جنہوں  نے 600 سال حکومت کی گٹھیا  کی بیماری کی  وجہ سے 1326 میں برسا میں فوت ہوگئے۔ جب وہ فوت ہوئے تو ان کا کل سرمایہ گھوڑے کی ایک زین ، اونچے جوتوں کا ایک جوڑا ، ایک تلوار ، ایک نیزہ ، ایک مال گاڑی ، کچھ گھوڑے ، بھیڑوں کئے تین ریوڑ ، نمک اور چمچ کے برتن۔

۔

 

زمین کے کھاتوں میں کھیوٹ، کھتونی، خسرہ نمبر اور دیگر اصلاحات کیا ہیں موضع/کھیوٹ/کھتوتی Measurement of Land

 زمین کے کھاتوں میں کھیوٹ، کھتونی، خسرہ نمبر اور دیگر اصلاحات کیا ہیں?

موضـــــــــــع
یہ ایک بڑا یونٹ ہوتا ہے جو عموماَ ایک بڑے گاؤں یا ایک سے زیادہ چھوٹے گاؤں کو ملا کر بنایا جاتا ہے۔ موضع کا نام اس گاؤں یا ایریا کے نام پر ہی درج ہوتا ہے
کھیــــــوٹ
جب موضع بن جاتا ہے تو اس میں بہت سارے لوگوں اور خاندانوں کی زمین شامل ہوتی ہے اس کی تقسیم مزید آسان بنانے کے لیے کھیوٹ نمبر دے دیے جاتے ہیں، مثلا یہ ایک سو ایکڑ ایک خاندان کے پاس ہے اسے ایک نمبر دے دیا کہ فلاں موضع کا یہ کھیوٹ نمبر ہے جو فلاں خاندان کے ان ان حصہ داروں کے پاس ہے۔ یا مختلف خاندانوں یا لوگوں کی زمین کو ملا کر بھی ایک کھیوٹ بنایا جاتا ہے۔ اس کا نمبر تبدیل ہو سکتا ہے جب کوئی زمین فروخت کرتا ہے یا ایسی کوئی تبدیلی ہوتی ہے تو آپ کے کھیوٹ کا نمبر بدل جاتا ہے
کھـــــــــتونی نمبر
موضع بھی بن گیا، اس میں کھیوٹ نمبر بھی لگ گئے اب کھیوٹ میں بہت سارے مالکان ہیں کسی کے پاس پانچ ایکڑ ہے کسی کے پاس دس اور کسی کے پاس دو ایکڑ تو ان کو کیسے پہچانے گے کہ اس کھیوٹ میں کونسے بندے کی کتنی زمین ہے تو اس کے لیے ہر حصہ دار کو ایک کھتونی نمبر لگا دیا جاتا ہے۔ مثلا کھیوٹ نمبر 1 میں دس ایکڑ زمین ہے اور دو مالک ہیں پانچ پانچ ایکڑ کے تو ان دونوں کو الگ الگ نمبر دے دیا جائے گا پانچ پانچ ایکڑ کا جسے کھتونی نمبر کہتے ہیں۔ یہ نمبر بھی تبدیل ہوتا رہتا ہے جب کوئی اپنے حصے سے فروخت کر دے کسی کو یا ایسی کوئی دوسری تبدیلی ہو
خســـــــــرہ نمبر
اب ایک کھتونی میں جو پانچ ایکڑ تھے (جو ہم نے مثال میں لیے پانچ ایکڑ، حقیقت میں ان کی تعداد جو بھی ہو گی) ہر ایکڑ کو ایک خاص نمبر دیا جاتا ہے جو خسرہ نمبر کہلا تا ہے۔ یہ نمبر کبھی تبدیل نہیں ہوتا چاہے کوئی فروخت کرے مگر کھیت کا خسرہ نمبر ایک ہی رہے گا۔ اور اس میں کھیت کی چاروں طرف سے پیمائش بھی لکھی ہوتی ہے کہ اس خسرہ نمبر کا جو کھیت ہے اس کی لمبائی چوڑائی وغیرہ کیا ہے۔
مســــــاوی(شجرہ)
یہ موضع کا نقشہ ہوتا ہے، کہاں کس کا کھیت ہے کہاں راستہ ہے کہاں کیا ہے سب اس میں ہوتا ہے۔ پٹواری کے پاس یہ نقشہ ایک کپڑے پر بنا ہوتا ہے جسے لٹھا بھی کہا جاتا ہے۔
جمعــــــبندی
اس میں ایک موضع کے کسی کھیوٹ کی کسی کھتونی کے کس خسرہ میں کتنے مالک ہیں سب کی تفصیل درج ہوتی ہے۔ اس میں یہ بھی درج ہوتا ہے کہ مالک کون ہے اور زمین کاشت کون کر رہا ہے ٹھیکہ پر یا کیسے۔ زمین کی فرد بھی اسی رجسٹر کی تفصیل کی بنیاد پر جاری ہوتی ہے۔
گـــــــردوری
آپ جس رقبہ کے مالک ہیں یا مزارع ہیں اس رقبہ میں کیا کاشت ہوتا ہے یا کیا کاشت کیا ہوا ہے اس کی تفصیل بھی پٹواری درج کرتا ہے اسے گردوری کہتے ہیں۔
اہــــــــم نـــــوٹ
زمین خریدتے وقت ہمیشہ خسرہ نمبر کی فرد کی بنیاد پر زمین خریدیں۔ مثلا فرض کریں ایک بندہ دو ایکڑ کا مالک ہے اس کا کھیوٹ نمبر 1 اور اس کے دو ایکڑ کھیوٹ نمبر 1 کی الگ الگ کھتونی نمبر 5 خسرہ نمبر 50 اوردوسرا ایکڑ کھتونی نمبر 10 میں خسرہ نمبر 100 ہیں۔ آپ اس سے ایک ایکڑ خریدنا چاہتے ہیں اور وہ آپ جو پسند کرتے ہیں اس کا خسرہ نمبر 50 ہے مگر اسے فرد اس 50 نمبر خسرہ کی نہیں بلکہ پوری رقبے کی کھیوٹ سے ملتی ہے جس میں وہ آپ کے نام ایک ایکڑ کروا دیتا ہے تو اب قانوناَ آپ اس کے دونوں ایک میں خسرہ نمبر 50 اور خسرہ نمبر 100 میں آدھے آدھے ایکڑ کے مالک بن جائیں گے اور اگر خسرہ نمبر 50فرد ہی آپ کو دے گا تو اس کی بنیاد پر وہی ایکڑ پورا آپ کے نام لگے گا۔ بیشک وہ آپ کو آپ کا پسند کیا ہوا خسرہ نمبر 50 ہی کاشت کے لیے دے رہا ہو مگر مستقبل میں آپ کے بچوں میں جھگڑا ہو سکتا ہے کہ آپ کے یا اس کے بچے کہیں آپ کا آدھا ایکڑ یہاں بول رہا ہے یہاں جاؤ ہمارا وہاں ہے ہم وہاں جائیں گے وغیرہ۔ یہ تو دو ایکڑ کی مثال تھی اکثر ایسا ہوتا ہے کہ کسی زیادہ ایکڑ کے مالک سے زمین خرید لیں تو بعد میں وہ کہتا ہے کہ میں نے یہ ایکڑ نہیں بلکہ کوئی دوسرا دیا تھا لہذا اسے کاشت کرو جا کر وہ چاہے بنجر ہو۔ اس لیے زمین لینے سے پہلے تسلی کر لیا کریں

ہمارا بچپن کہیں کھو گیا ہے

ہمارا بچپن کہیں کھو گیا ہے:
تحریر : ندیم اشرف جنجوعہ
                          گزشتہ ایک دہائی سے ہمارا بچپن کہیں کھو گیا ہے اب روز بروز بڑھتی ہوئی سوشل میڈیا کی ایپس اور سمارٹ فون میں ہی بچپن اور نوجوانی محدود ہو کر رہ گئی ہے ہمارے نوجوان اس میں ایسے گم ہوئے ہیں کہ شہر کا شہر ہی ویران نظر آتا ہے نہ وہ پہلے کیطرح گائوں میں خؤشحالی نہ وہ شہروں کی رونقین ہیں گلی محلے قبرستان کا منظر پیش کرتے ہیں، کھیلوں کے میدان ویران ہو چکے ہیں، بیٹھکیں ویران ہو چکی ہیں بچپن کی شرارتیں جذبات میں بدل چکی ہیں اس گلوبل دنیا کے نشے نے ہمیں تنہاکر دیا ہے فیس بک پر 5000 ہزار فرینڈز رکھنے والا ٹوئیٹر پر ملین فالورز والا بدقسمتی سے اپنے ایک ہی گھر میں موجود بھائی کے 

حالات سے بھی بےخبر ہے جس کی وجہ سے اس کی نیچرل زندگی در برہم ہے ۔

ہم سماجی اقدار سے غافل ہو چکے ہیں ہمارے ارد گرد کیا ہورہا ہے اس ہم مکمل طور پر غافل ہو چکے ہیں ہم اپنی سوچ کے غلام ہو چکے ہیں اس سوشل میڈیا کے جادو نے ہمیں سوشل زندگی سے غافل کر دیا ہے ہمارے اندر سے انسانیت کا پیمانہ گرتا جا رہا ہے اب کوئی محلے یا گائوں میں فوتگی ہو جائے تو دارے (بھورے) ویران نظر آتے ہیں نفرتوں کا بازار گرم ہے صبر کا دامن چھوٹتا جا رہاہے خودغرضی اور لاپرواہی 
بڑھتی جا رہی ہے ۔
پاکستان میں فرسودہ نظام تعلیم اور سوشل میڈیا کے استعمال نے نواجوان نسل کا مستقبل تباہ کر دیا ہے پاکستان میں جہاں ہر شعبہ جمود کا شکار وہیں ہمارے حکمران اس سنجیدہ مسئلے سے لاپرواہ جس کی وجہ سے آئے روز بے روزگاری میں بھی اضافہ ہو رہا ہے 

How To Add Animated Flash Clock To Your Blogger Blog




Animated Flash Clock To Your Blogger Blog

Hello! `How are you guys? here's the cool Clock.this tutorial will show you how to Add animated flash clock gadget your Blogger blog. A clock gives a beautiful look to a website. A clock is a necessity for a personal website, forum, blog etc.Isn’t it exciting when you get a highly quality flash Clock absolutely Free? you can add this flash animated clock your blog easily.i've tested this Flash Clock on internet explorer, mozzilla firefox & many other web browsers. it's very fast and fresh.You simply have to copy the code below each clock and add it to your blog.





How To Add Aniamted Flash Clock Widget To Blogger?

  • Choose a type of clock below
  • Provide Require widget title
  • Fill Height and Width of the Widget
  • Click on "Genetate" button
  • Finally click on "Add to Blogger" to add it to your blog.